ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور: پیٹ میں درد کے باعث اسپتال میں داخل نوجوان کی اچانک موت ؛ پولس تھانہ کے باہر میت رکھ کراحتجاج؛ ہائی وے بلاک کرنے کی کوشش

ہوناور: پیٹ میں درد کے باعث اسپتال میں داخل نوجوان کی اچانک موت ؛ پولس تھانہ کے باہر میت رکھ کراحتجاج؛ ہائی وے بلاک کرنے کی کوشش

Fri, 25 Aug 2023 10:45:29    S.O. News Service

ہوناور 25/اگست(ایس او نیوز): پیٹ کے درد میں مبتلا نوجوان کو پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرانے کے بعد اس کی اچانک موت سے گھر والوں سمیت پورے علاقہ کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور سینکڑوں کی تعداد میں ناراض عوام نے اسپتال اور ڈاکٹروں پر لاپرواہی کا الزام عائد کرتے ہوئے میت کو پولس تھانہ کے باہر رکھ کر احتجاج کیا۔ انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی احتجاجیوں نے ہائی وے کو بلاک کرنے کی بھی کوشش کی، مگر بھٹکل ڈی وائی ایس پی شریکانت کی قیادت میں پولس نے حالات کو قابو میں رکھا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد قانونی کارروائی کرنے کا یقین دلاتے ہوئے احتجاج ختم کرایا۔ جس کے بعد میت کی ہوناور مسجد میں نماز جنازہ کے بعد کرکی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔

اطلاع کے مطابق ہوناور کے گاندھی نگر کے رہنے والے محمد ابراہیم آصف (33) کو پیٹ میں درد کی شکایت پر 18/اگست کی شام کو ہوناور کے ایک معروف پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا تھا۔ گھر والوں کے مطابق ڈاکٹروں نے جب جانچ کی اور اس کا اسکین کرایا تو پتہ چلا کہ ان کے گردے میں پتھری ہے، انہیں 19 تاریخ کو علاج کے لئے ایڈمٹ کرایا گیا، 20 تاریخ کو اسپتال کے ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ وہ ان کا لیزر ٹریٹمنٹ کرائیں گے۔12 بجے کے قریب لیزر ٹریٹمنٹ کرکے انہیں وارڈ میں لایا گیا۔ اس موقع پر نوجوان کی طبیعت تھوڑی سست لگ رہی تھی، تاہم، علاج جاری تھا مگر23 تاریخ کو ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی، اس لیے رات 8:00 بجے کے قریب انھیں اسپتال کے ڈاکٹر کے مشورے پر رشتہ داروں نے اسپتال کی ہی ایمبولینس پر منی پال کے لئے روانہ ہوگئے۔رات تقریباً 10 بجے منی پال اسپتال پہچنے پر ڈاکٹروں نے بتایاکہ وہ فوت ہوچکے ہیں۔ موت کی اطلاع ملتے ہی پورا خاندان سکتے میں آگیا۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ اچھا خاصا نوجوان ہوناور اسپتال کے ڈاکٹروں کے غلط علاج یا پھر ان کی لاپرواہی کا شکار ہوا ہے۔

اس ضمن میں متوفی کی اہلیہ سمیہ محمد آصف نے ہوناور پولس تھانے میں شکایت درج کرائی ہے کہ ان کے شوہر کی موت مشکوک ہے، لہذا موت کی جانچ کی جائے اور انہیں انصاف دلایا جائے۔ 

منی پال اسپتال میں ہی پوسٹ مارٹم کے بعد جمعرات کی شام قریب چھ بجے میت جب ایمبولینس کے ذریعے ہوناور کے قریب پہنچی تو شراوتی پل کے قریب ہی سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے، یہاں سے جلوس نکالتے ہوئے عوام میت کو لے کر سیدھے پولس تھانہ پہنچے اور تھانہ کے باہر ایمبولینس کو کھڑی کرکے احتجاج کرنا شروع کردیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ اسپتال اور ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ احتجاجیوں نے جب نیشنل ہائی وے کو بلاک کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔ ڈی وائی ایس پی سری کانت سمیت سرکل پولس انسپکٹر تیمپا نائک کے ساتھ ساتھ ہوناور، منکی اور کمٹہ سے بھی پولس عملہ کو منگوایا گیا تھا۔ رات قریب ساڑھے آٹھ بجے کرکی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔


Share: